رٹھوعہ ہریام پل واقعہ۔سرکاری گاڑی کس کی تھی۔ کام بدستور بند
میرپور/28 ستمبر 2026: رٹھوعہ ہریام پل پر الیکشن ٹربیونل کے جج لیاقت علی مغل کے گن مین کی جانب سے تعمیراتی کمپنی کے پراجیکٹ مینیجر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے بعد پل کی تعمیر کا کام احتجاجاً بند کر دیا گیا، جس کے باعث پل کے افتتاحی پروگرام میں بھی تاخیر کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ناخوشگوار واقعہ تین روز قبل اس وقت پیش آیا جب جج لیاقت علی مغل سرکاری گاڑی پر اسلام گڑھ کی جانب سے میرپور آ رہے تھے۔ رٹھوعہ ہریام پل کے گیٹ پر موجود تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں نے انہیں روک کر بتایا کہ پل کے دونوں اطراف گیٹ بند ہیں، تعمیراتی کام جاری ہے اور اس راستے سے آمدورفت کی اجازت نہیں۔ذرائع کے مطابق کمپنی اہلکاروں کی جانب سے گیٹ کھولنے سے معذرت کے بعد جج کے گن مین نے ڈیوٹی پر موجود پراجیکٹ مینیجر احسان کو مبینہ طور پر تھپڑ مارے اور زبردستی گیٹ کھول کر سرکاری گاڑی کو پل سے میرپور کی جانب روانہ کر دیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر تعمیراتی کمپنی کے دیگر اہلکاروں نے پل کے دوسرے گیٹ پر سرکاری گاڑی نمبر 040 کو روک لیا، جہاں دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی اور بحث و تکرار ہوئی۔ واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔مبینہ واقعے کے بعد تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں نے احتجاجاً پل پر جاری تعمیراتی کام بند کر دیا ہے، جس کے باعث پل کی تکمیل اور مجوزہ افتتاحی پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام یا فریقین کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔