عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کو لانگ مارچ کی دھمکی دے دی
اسلام آباد / مظفر آباد : جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے حکومتِ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کو ایک فوری یادداشت (Urgent Memorandum) ارسال کی ہے، جس میں 4 اکتوبر 2025 کے 'مظفر آباد معاہدے' پر مکمل عملدرآمد اور فوری آئینی و انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے مذاکرات کے لیے 31 مئی 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شوکت نواز میر، عمر نزیر کشمیری اور دیگر اراکین کے دستخطوں سے جاری اس دستاویز میں 8 بڑے مطالبات پیش کیے گئے ہیں:پاکستان میں مقیم مہاجرین کے نام پر قائم قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستوں کے انتظام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انتخابات سے قبل حکمران طبقے کو حاصل تمام غیر آئینی مراعات اور سیاسی بنیادوں پر دی گئی سہولیات کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مقامی حکومت کے نمائندوں کو مظفر آباد معاہدے کی روح کے مطابق مکمل مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں۔ اسمبلی کے امیدواروں اور اراکین کے لیے ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی وحدت اور سالمیت سے وفاداری کا حلف لازمی قرار دیا جائے۔ یونین کونسل کی سطح پر ووٹر لسٹوں کی دوبارہ تیاری اور تمام اہل شہریوں کو آن لائن رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے۔ تمام حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد برابر رکھی جائے تاکہ ہر ووٹ کی قدر یکساں ہو۔گزشتہ 5 سالوں کے ترقیاتی بجٹ، پراجیکٹس اور ارکانِ اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر کی جائیں۔ بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کو ان کے آبائی حلقوں میں ڈیجیٹل یا پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ محض زبانی مطالبات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ چارٹر اور آئینی فریم ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کمیٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو محض 'امن و امان' کا مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے جمہوری اعتماد کے بحران کے طور پر دیکھے۔ دستاویز کے مطابق، اگر مقررہ وقت (31 مئی) تک ان معاملات کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو عوامی ایکشن کمیٹی پہلے سے طے شدہ احتجاجی تحریک شروع کر دے گی، جس کے تحت 9 جون 2026 کو ملک گیر 'لانگ مارچ' کیا جائے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے 2026 کے عام انتخابات سے قبل آزاد جموں و کشمیر میں عوامی اعتماد کی بحالی اور جمہوری برابری کے لیے ان اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا ہے۔