واپس جائیں

آزاد کشمیر، دینی مدارس نے حکومت کو 30 دن کی ڈیڈ لائن دے دی

11 May 2026, 03:08 PM
آزاد کشمیر، دینی مدارس نے حکومت کو 30 دن کی ڈیڈ لائن دے دی

مظفر آباد: مدارس دینیہ نے حکومت آزادکشمیر کو 30 جون تک مسائل حل کرنے کی ڈیڈ لائن دیدی جس کے بعد ریاست گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جامعہ اسلامیہ برکاتیہ بینک روڈ میں منعقدہ ڈویژنل تحفظ حقوق مدارس دینیہ کنونشن زیر اہتمام تحریک تحفظ مدارس دینیہ آزاد جموں و کشمیر آزاد جموں وکشمیر ضلع مظفر آباد کا متفقہ اعلامیہ جاری، صدارت تحریک کے صدر علامہ صاحبزادہ حمید الدین برکتی نے کی،نظامت کے فرائض سیکرٹری جنرل مولانا قاری عبدالماجد خان نے ادا کئے، کنونشن میں نائب صدر دانیال شہاب مدنی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے متفقہ طور پر جملہ مسالک کے 200 سے زائد علما و مدارس کے زمہ داران نے منظور کر لیا، جس میں 8 نکاتی مطالبات پیش کئے گئے پہلا مطالبہ مدارس دینیہ کے اقامتی طلبہ کے لیے محکمہ زکوة کی معاونت میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیمی و غذائی اخراجات کے تناظر میں طلبہ کی بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں اس وقت محکمہ فی طالب علم 50 روپے یومیہ دے رہا ہے جو نہایت ناانصافی ہے، کنونشن نے مطالبہ کیا کہ مدارس دینیہ کو مکمل طورپر انکم ٹیکس اور دیگر غیر ضروری مالی بوجھ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور مرکزی زکوة کونسل کی جانب سے تجوید القرآن ٹرسٹ کے حوالہ سے جاری نوٹیفکیشنز پر فوری عملدرآمد یقینی بنایاجائے تاکہ قرآنی خدمات انجام دینے والے ادارے مالی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔ کنونشن حکومت کی جانب سے تجوید القرآن ٹرسٹ کے قراء کرام کی اعانت میں اضافے کے اقدام کو سراہتا ہے، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر اس اعانت میں مزید اضافہ توسیع اور مستقل بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ محکمہ خوراک آزاد جموں و کشمیر ریاست بھر کے مدارس دینیہ کے لیے آٹے کا مستقل، با قاعدہ اورشفاف الگ کوٹہ مختص کرے تا کہ مدارس کو بلاتعطل اور بغیر مشکل کے آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے اور ہزاروں طلبہ و طالبات کو در پیش غذائی مسائل میں کی آئے۔ کنونشن کے علما نے مطالبہ کیا کہ محکمہ زکوة کے ملازمین کو حکومت آزاد جموں و کشمیر فوری طور پر ناریل میزانیہ پر منتقل کرے تا کہ زکوة فنڈ سے حاصل ہونے والی آمدن زیادہ سے زیادہ مدارس و دیگر شرعی مدات پر خرچ ہو سکے،اور ملازمین کے حقوق کا بھی تحفظ ہو، کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ مدارس دینیہ کو ریاست سے تعلیمی، فکری اور سماجی ڈھانچے کا بنیادی ستون تسلیم کرتے ہوئے ان کے خلاف ہر قسم کے منفی پراپیگنڈے، بیجا رکاوٹوں اور انتظامی مشکلات کا خاتمہ کیا جائے۔اعلامیہ کے ایک اور مطالبے کے مطابق حکومت مدارس دینیہ کے ساتھ مشاورت کے مستقل اور موثر نظام کو فروغ دے تاکہ دینی تعلیم قومی یکجہتی، نو جوان نسل کی اصلاح اور معاشرتی استحکام کے حوالہ سے مشتر کہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے، کنونشن میں ریاست آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر،ملک پاکستان و افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور تعاون کا اعادہ کیا گیا اور کہا کہ کنونشن اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ مدارس دینیہ ہمیشہ عقیدہ ختم نبوت، نظریہ پاکستان، نظریہ الحاق پاکستان، استحکام وطن، اتحاد امت اور دفاع پاکستان کے لیے اپنی دینی وملی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے، دینی مدارس، علماء کرام، مشائخ عظام، ائمہ وخطبائ، طلبہ و ذمہ داران مدارس کے اس نمائندہ اجتماع تحفظ حقوق مدارس دینیہ کنونشن میں اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ مدارس دینیہ اس خطے کی دینی، نظریاتی، اخلاقی اور فکری اساس ہیں، جنہوں نے ہر دور میں امت کی رہنمائی، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، دفاع وطن، استحکام پاکستان، نظریہ الحاق پاکستان اور ملی وحدت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کنونشن کے شرکاء معرکہ حق بنیان مرصوص'' کے تناظر میں افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں قربانیوں اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت، جرات، استقامت اور قومی سلامتی کے لیے ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کنونشن اس امر کا واضح اعلان کرتا ہے کہ پاکستان اور ریاست آزاد جموں وکشمیر کے امن، استحکام اور نظریاتی سرحدوں کے خلاف سرگرم اور دیگر ملک دشمن و انتشار پسند عناصر امت مسلمہ اور وطن عزیز کے مشترکہ دشمن ہیں۔ یہ کنونشن افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور تخریبی عناصر کے خلاف جاری مؤثر اقدامات اور آپریشنز کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ مدارس ہمیشہ استحکام پاکستان، امن عامہ اور قومی وحدت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ کنونشن آزاد جموں وکشمیر میں تمام مکاتب فکر کے درمیان قائم مثالی مسلکی ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کوریاست کا قیمتی سرمایہ قرار دیتی ہے۔ شرکائے کنونشن تمام مسالک کے ان جلیل القدرا کابرین علماء و مشائخ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی حکمت، اعتدال، بصیرت اور دینی قیادت کے ذریعے ریاست میں اتحاد امت، اخوت اور اعتدال کی فضا قائم رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ کنونشن سے نائب صدور مولانا محمد سرفراز، صاحبزادہ فیاض حسین شاہ،علامہ سید عادل عباس نقوی،مفتی عبدالعزیز قاسمی، مولانا سید اسحاق نقوی،مولانا ذاہد السلام اثری،مولانا ارشد ضیائی، علامہ صاحبزادہ طاہر برکتی، علامہ قاضی غلام سرور، مولانا شیخ محمد الطاف، سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ، قاری صداقت حسین،منظور الحسن سمیت بریلوی، اہل حدیث، دیوبندی، شیعہ مدارس کے زمہ داران نے خطاب کیا اور وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور سے مطالبہ کیا کہ وہ مدارس کے طلبہ کی اعانت سو فیصد بڑھائیں، مدارس کفالتی ادارے ہیں انکو ملنے والے عطیات زکوة پر ٹیکس ختم، محکمہ خوراک سے سبسڈی والے آٹے کا کوٹہ مقرر کرنے اور زکوة کونسل میں اصلاح احوال کریں بصورت دیگر پونچھ اور میرپور ڈویژنز میں بھی کنونشن کرکے 30 جون کے بعد ریاست گیر تاریخی احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہونگے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں