مظفرآباد میں ہنی ٹریپ کے واقعات۔عوامی حلقوں میں تشویش
مظفرآباد(نامہ نگار)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں مبینہ ہنی ٹریپ، بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو مالی و ذہنی طور پر نشانہ بنانے کے واقعات پر عوامی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ مختلف سماجی و شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ بے گناہ افراد بھی متاثر نہ ہوں اور اگر کوئی جرائم میں ملوث ہے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے متعدد معاملات سامنے آئے جن میں نوجوانوں کو دوستی، تعلقات یا شادی کے جھانسے میں لے کر مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے گئے، جبکہ بعد ازاں تنازعات نے قانونی شکل اختیار کر لی۔ بعض حلقوں کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے بھی ایسے معاملات میں اضافہ کیا ہے جہاں ذاتی معلومات اور تصاویر کو دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں چہلہ بانڈی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان اور ایک بااثر خاندان کی خاتون کے درمیان تنازعہ بھی مقامی سطح پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی عدالتی فیصلے یا سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں بغیر ثبوت کسی بھی فریق کو مجرم قرار دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے معاشرتی اور قانونی پیچیدگیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
شہر کے مختلف سماجی کارکنوں نے اینٹی ہراسمنٹ مرکز کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس ادارے کا بنیادی مقصد متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم اگر کہیں اختیارات کے غلط استعمال یا جھوٹے مقدمات کی شکایات سامنے آتی ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ حقیقی ہراسمنٹ کیسز کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے تاکہ متاثرین انصاف سے محروم نہ رہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والے بعض متنازع کیسز، جن پر سوشل میڈیا میں طویل بحث ہوتی رہی، آج بھی عوامی یادداشت کا حصہ ہیں اور انہی واقعات کے باعث معاشرے میں بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ عوام نے حکومتِ آزاد کشمیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہراسمنٹ، بلیک میلنگ، جعلی الزامات اور سائبر جرائم جیسے معاملات کے لیے واضح اور شفاف پالیسی اختیار کی جائے تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو سکے۔سول سوسائٹی کے مطابق عوام کو بھی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی تنازعے کی صورت میں قانون کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ عدالت ہی کسی بھی الزام کی حقیقت کا حتمی تعین کر سکتی ہے۔