واپس جائیں

مظفرآباد، جعلی اسناد کا الزام، محکمہ صحت کی ملازمہ کے خلاف مقدمہ درج

04 May 2026, 03:21 PM
مظفرآباد، جعلی اسناد کا الزام، محکمہ صحت کی ملازمہ کے خلاف مقدمہ درج

مظفرآباد(نامہ نگار) حکومت ریاست جموں و کشمیر کے محکمہ صحت میں جعلی تعلیمی اسناد کے ذریعے نوکری حاصل کرنے کے سنگین انکشاف کے بعد متعلقہ خاتون کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جہلم ویلی ڈاکٹر طاہر رحیم مغل کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق صنم خالد زوجہ عبدالصبور، ساکنہ لیپا، نے لیڈی ہیلتھ ورکر کی اسامی کے لیے 7 مئی 2025 کو روزنامہ محاسب میں شائع اشتہار کے تحت درخواست دی۔ سلیکشن کمیٹی نے ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد اسے کامیاب قرار دے کر تعینات بھی کر دیا۔


تاہم بعد از تقرری، عدالت عالیہ کے احکامات پر امیدوارہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کروائی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ پیش کی گئی میٹرک سند جعلی اور بوگس ہے۔ متعلقہ تعلیمی بورڈ کی جانب سے تصدیق کے دوران سند کو مکمل طور پر غیر مستند قرار دیا گیا۔ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کرنا نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے محکمہ صحت کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی جبکہ دیگر بھرتیوں کی بھی چھان بین شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طاہر رحیم مغل نے واقعے کو "انتہائی حساس اور فوری نوعیت کا معاملہ" قرار دیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ملزمہ کو کسی بھی وقت گرفتار کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی اسناد کے ذریعے سرکاری اداروں میں داخل ہونے والے عناصر کے خلاف عبرتناک کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں