ایران اسرائیل جنگ۔بھارت کی دوا ساز صنعت بد حالی سے دوچار
نئی دہلی: ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والی معاشی اور تجارتی غیر یقینی صورتحال نے بھارت کی دوا سازی صنعت کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ سپلائی چین میں خلل، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور چین پر خام مال کے انحصار کے باعث بھارتی فارماسیوٹیکل شعبہ مشکلات کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں منافع میں کمی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔جرمن ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی دوا سازی صنعت عالمی سطح پر جنیرک ادویات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اسے سستی مگر مؤثر ادویات کی پیداوار کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس صنعت کی کمزوریاں نمایاں کر دی ہیں۔ انڈین برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت کی 50 ارب ڈالر مالیت کی دوا سازی صنعت عالمی جنیرک ادویات کی تقریباً 20 فیصد فراہمی کرتی ہے، جبکہ اس کی نصف سے زیادہ برآمدات امریکہ اور یورپی یونین جیسے سخت ریگولیٹڈ مارکیٹس کو جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی ادویات سازی کا بڑا انحصار فعال دوا سازی اجزاء (API) پر ہے، جن میں سے 60 سے 70 فیصد چین سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ ایران جنگ کے باعث توانائی اور عالمی شپنگ راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ان اجزاء اور دیگر کیمیائی مواد کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خام مال، سالوینٹس اور پیکیجنگ مواد کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ لاجسٹکس اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات نے مجموعی پیداواری لاگت کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال سے ابتدائی مرحلے میں ادویات کی قیمتوں پر معمولی اثرات دیکھے گئے ہیں تاہم مستقبل میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خلل کے باعث بھارتی دوا ساز کمپنیوں کو تقریباً 30 کروڑ سے 50 کروڑ ڈالر تک نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ سپلائی چین میں مزید رکاوٹیں پیدا ہونے کی صورت میں یہ نقصان بڑھ سکتا ہے۔ بھارتی حکومت نے صورتحال کے پیش نظر بعض فوری اقدامات کیے ہیں جن میں اہم خام مال پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں محدود اضافے کی اجازت شامل ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صنعت کو سہارا دینا اور سپلائی کو برقرار رکھنا ہے۔ بھارتی کامرس سیکرٹری راجیش اگروال کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تجارتی راستوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات فارما انڈسٹری پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی چین میں جاری خلل برقرار رہا تو نہ صرف پیداوار متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ادویات کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سابق چیف سائنسدان سومیا سوامیناتھن کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ضروری ادویات کی فراہمی متاثر نہ ہو اور ماضی کی وبائی صورتحال جیسے بحران سے بچا جا سکے۔