کشمیری نوجوان پندرہ برس بعد بے گناہ قرار
سری نگر: ڈیڑھ دہائی بعد 5 کشمیری نوجوانوں کی بے گناہی ثابت عدالت نے 15 برس بعد جھوٹے مقدمے سے بری کر دیا.مقبوضہ جموں وکشمیر میں عدالت نے پانچ کشمیری نوجوانوں کو 15برس بعد ایک جھوٹے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ضلع اسلام آباد کی ایک عدالت نے عبدالرحمن بٹ، مشتاق احمد وانی، ظفر احمد وانی، عبدالرشید وانی اور جاوید احمد انصاری کو جھوٹے مقدمے سے بری کیا۔ ایڈیشنل سیشن جج مسرت روحی کی عدالت میں عبدالرحمان بٹ کے مقدمے کی پیروی ایڈووکیٹ ارجمند ریشی جبکہ دیگر چار کی پیروی ایڈوکیٹ ریاض احمد گنائی نے کی۔ ان پر 20جون2011میں بھارتی فورسز کی گشتی پارٹی پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ آور ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔نوجوانوں کے خلاف مقدمہ دسمبر 2011میں قائم کیا گیا تھا اور جولائی 2013میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے قراردیا کہ استغاثہ الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہاہے لہذا ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔