مہاجرین ووٹروں کے لیے آزادکشمیر الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ
اسلام آباد/مظفر آباد :چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے اعلان کیا ہے کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں غیر جانبدارانہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی دفتر میں ویڈیو لنک کے ذریعے صوبائی، ریجنل اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ 2021 کی انتخابی فہرست کو بنیاد بنا کر نئے ووٹرز کا اندراج کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے اندراج اور درستگی کے لیے کوالیفائنگ ڈیٹ یکم اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مہاجرین حلقوں میں رجسٹریشن کے لیے اسٹیٹ سبجیکٹ بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ:جموں اور ویلی کے مہاجرین کی فہرستیں الگ الگ مرتب کی جائیں گی۔آزاد کشمیر کے 10 اضلاع میں سے کسی کا بھی مستقل پتہ رکھنے والا شخص مہاجرین حلقوں میں ووٹ درج کرانے یا الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہوگا۔منگلا ڈیم کے وہ متاثرین جو پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں، انہیں جموں کے حلقوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل تصدیقی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو ان کیسز کا فیصلہ کریں گی جہاں اسٹیٹ سبجیکٹ دستیاب نہ ہو۔ مزید برآں، 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے افراد 'فارمـب' کی بنیاد پر نام درج کرا سکتے ہیں، تاہم ووٹنگ کے وقت اصل شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہوگا۔ وفات پانے والے افراد کے نام ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر خارج کیے جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انتخابی عمل کو مزید موثر بنا رہا ہے۔ انہوں نے ووٹر آگاہی مہم تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ آخر میں انہوں نے بھرپور تعاون پر چیف الیکشن کمشنر پاکستان سکندر سلطان راجہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان اور اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔