قرضہ سکیم ، آزادکشمیر کے نوجوان حکومت کو بدعائیں دینے لگے
مظفرآباد(نامہ نگار)آزاد کشمیر میں نوجوانوں کے لیے اعلان کردہ بلا سود قرضہ اسکیم، جو آزاد جموں و کشمیر بینک اور نجی شعبے کے ادارے “سمال انڈسٹری” کے اشتراک سے شروع کی گئی تھی، تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکی، جس کے باعث ہزاروں درخواست گزاروں میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔میڈیا انوسٹیگیشن ٹیم سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے امیدوار قانون ساز اسمبلی ندیم عالم اعوان،ڈاکٹر لطف الرحمن اعوان و دیگر سول سوسائٹی کے زعماء اور درخواستیں دینے والوں نے کہا ہے کہ اس اسکیم کے تحت پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک بلا سود قرضہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا مقصد بے روزگار نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کو مالی معاونت فراہم کرنا تھا۔ تاہم، متعدد بار حکومتی یقین دہانیوں اور اعلانات کے باوجود قرضوں کے اجرا کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔درخواست گزار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے درخواستیں جمع کروائیں، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو کوئی واضح پیش رفت سامنے آئی اور نہ ہی کسی حتمی شیڈول کا اعلان کیا گیا۔ اس صورتحال نے حکومتی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ متاثرین اسے انتظامی نااہلی اور بدانتظامی قرار دے رہے ہیں۔
کاروباری حلقوں کا موقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسے منصوبوں کا بروقت اجرا نہ ہونا نہ صرف نوجوانوں کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ مقامی معیشت کی بحالی کی کوششوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار اعلانات اور عملی اقدامات میں تضاد نے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔دوسری جانب سول سوسائٹی تنظیموں نے اس معاملے پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اگر آئندہ چوبیس گھنٹوں میں حکومت کی جانب سے واضح روڈ میپ پیش نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔میڈیا انوسٹیگیشن ٹیم کے مطابق ممکنہ احتجاج میں قانون ساز اسمبلی اور بینک دفاتر کے گھیراؤ جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔اب تک حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے اس تاخیر کی وجوہات یا آئندہ کے لائحہ عمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔