آذاد کشمیر کے سابق وزیر حکومت اور بھتیجے کے خلاف ایف آئی آر درج
پلندری :سابق وزیر حکومت ناصر حسین ڈار اور اس کے بھتیجے فہد عرف منشی پر تھانہ پولیس پلندری میں زبیر احمد ڈار ایڈووکیٹ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ایف آئی آر علت نمبر 115/26 میں ملزمان کے خلاف 341 و506 APC جرائم درج کیے گئے ہیں پولیس انوسٹیگیشن کے بعد مزید دفعات کی ایزادگی بھی کر سکتی ہے سابق وزیر حکومت ناصر حسین ڈار نے گزشتہ روز اپنے حقیقی بھتیجے مشی سے زبیر احمد ڈار پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا اور ایڈووکیٹ کو آپنے آفیشل فرائض انجام دینے سے بھی روکنے کی دھمکیاں دی گی تھی اور ہلاکت جان سے مارنے کی بھی دھمکیاں دی گئ تھی جس پر زبیر احمد ڈار نے تحریری درخواست تھانہ پولیس پل پلندری میں دی تھی درخواست میں سابق وزیر حکومت کو بھی نامزد کیا گیا تھا پولیس نے مکمل طور پر تحقیق کرنے گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ناصر حسین ڈار کے خلاف کارروائی کی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابق وزیر حکومت اس وقت لاہور میں رہائش پزیر ہیں آزا کشمیر پولیس بلخصوص پلندری پولیس کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ اگر سابق وزیر قانون کے آگے سرنڈر نہیں کرتا عدالت میں حاضر ہو کر ضمانت نہیں کرواتا تو پولیس اس کو لاہور سے گرفتار کر سکتی ہے یہ پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے زبیر احمد ڈار ایڈووکیٹ نے اس ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کر دی ہے اب اصل ہدف گرفتاری کا ہے قانون سب کے لیے برابر ہے ناصر ڈار سے میری ذاتی کوی لڑائی نہیں ہے وہ اپنے آپکو مہاجر ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ یہ پلندری اسلام پورہ کا رہائشی و سکونتی ہے جعل سازی سے اس نے اسٹیٹ سبجیکٹ بنوایا ہوا ہے جس کو ہم نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے وہ عدالتوں میں اپنے آپ کو مہاجر ثابت کریں ہم یہ ثابت کر یں گے کہ وہ مہاجر نہیں ہے اس کا کیس انتہائی کمزور اور دو نمبری پر مشتمل ہے اسی لیے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور مجھے مارنے کی دھمکیاں دی گئ ہیں میں ایک وکیل ہوں اور اپنے پروفیشنل پیشے کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا چاے اس کے لیے کچھ بھی ہو جاے