پاکستان میں داخل ہوتے ہی گرفتاری کا حدشہ۔
مظفرآباد(نامہ نگار)کور ممبر عوامی جائنٹ ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا، جس کے بعد مختلف سماجی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔میڈیا سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے فیصل جمیل کشمیری،طارق خان مغل،راجہ شفیق خان،فرحان اکرم،سہیل خان،خواجہ کبیر،سلیم کیانی،اسماعیل شاہ،زاہد مغل،فرقان ستی و دیگر کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شوکت نواز میر اگر پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مقدمہ ایک پاکستانی ادارے کی جانب سے درج کیا گیا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شمس اعوان نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مذکورہ ایف آئی آر ایک ایسے ادارے کی جانب سے درج کی گئی ہے جو پاکستان کے قانونی دائرہ کار میں کام کرتا ہے، اور اس قانون کا اطلاق بھی صرف پاکستان کی حدود تک محدود ہے۔ ان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر ایک الگ آئینی حیثیت رکھتا ہے، جہاں پاکستان کے قوانین براہ راست نافذ نہیں ہوتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے شہری پاکستان کے آئین کے تحت شہری تسلیم نہیں کیے جاتے، لہٰذا ان پر پاکستانی قوانین کا اطلاق بھی متنازع حیثیت رکھتا ہے۔ شمس اعوان و دیگر کا کہنا تھا کہ اظہار رائے ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور سوشل میڈیا پر عوامی مسائل اٹھانا کسی بھی طور جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کسی پاکستانی ادارے کی جانب سے آزاد کشمیر کے اندر کارروائی یا گرفتاری کی کوشش کی گئی تو اسے غیر قانونی مداخلت تصور کیا جائے گا، جس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کسی ریاست یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔طارق خان،فرقان ستی،شمس اعوان نے کہا کہ شوکت نواز میر نے کبھی بھی ریاست مخالف بیانیہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی وہ پاکستان یا اس کے اداروں کے خلاف ہیں، بلکہ وہ پرامن طریقے سے عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے خبردار کیا کہ شوکت نواز میر کے خلاف کارروائی کو عوامی حلقے اپنے حقوق پر حملہ تصور کریں گے، اور مطالبہ کیا کہ اس ایف آئی آر کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ خطے کا ماحول کشیدہ ہونے سے بچایا جا سکے