مختلف مکاتب فکر کے علما نے پاک افغان جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کر دیا
اسلام آباد: پاکستان کے تمام مکاتب فکر کیممتاز علماء کرام نے پاکـافغان جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین موجود حل طلب معاملات کو سنجیدگی، بردباری اور باہمی اعتماد کے ساتھ مذاکرات اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس حوالے سے ملک کے جید علماء کرام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی،مولانا مفتی منیب الرحمن،مولانا انوار الحق، مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا عبدالمالک،مولانا یاسین ظفر سمیت دیگر اکابرین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ دینی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اس لیے باہمی معاملات کوجنگ سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے_علماء کرام نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان عالمی سطح پر مختلف تنازعات کے حل میں مثبت اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ایسے میں ضروری ہے کہ اپنے معاملات کو بھی ترجیحی بنیادوں پرمذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے افغان حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور پاکستان میں دہشتگردی کے مرتکب عناصر کو کنٹرول کرے_انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے مابین امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں،ان کوششوں کی قدر کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ حسنِ نیت سے اپنے اختلافات کو ختم کریں۔علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی میں توسیع خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے