آزاد کشمیر میں مزید دو تعلیمی بورڈز کی منظوری دے دی گئی
مظفرآباد(نامہ نگار) آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے انٹرمیڈیٹ ثانوی تعلیمی بورڈ پونچھ راولاکوٹ اور مظفرآباد کے قیام کی منظوری دے دی۔تعلیمی نظام میں بہتری اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مزید دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کی اصولی منظوری نے والدین،طلباء تنظیموں میں اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق تعلیمی بورڈ پونچھ اور تعلیمی بورڈ مظفرآباد کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے خطے میں امتحانی نظام کو مزید منظم اور قابل رسائی بنانے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق نئے بورڈز کے قیام کا مقصد طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، امتحانی عمل کو مقامی سطح پر مؤثر بنانا اور موجودہ بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے طلبہ کو امتحانی و انتظامی معاملات میں آسانی میسر آئے گی جبکہ نتائج کی بروقت تیاری اور شفافیت میں بھی بہتری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن میں نئے بورڈز کے قیام سے انتظامی دائرہ کار کو تقسیم کر کے بہتر نگرانی ممکن بنائی جائے گی۔ اس سے قبل پورے آزاد کشمیر کے لیے مرکزی سطح پر امتحانی نظام چلایا جا رہا تھا جس پر بوجھ بڑھنے کے باعث مسائل کا سامنا تھا۔نوٹیفکیشن میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے بورڈز کے قیام کے لیے درکار انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات فوری طور پر مکمل کریں۔ ابتدائی مرحلے میں دفاتر کے قیام، عملے کی تعیناتی اور امتحانی ڈھانچے کی تشکیل پر کام کیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے شفافیت، وسائل کی فراہمی اور میرٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔
حکام کے مطابق نئے بورڈز کے قیام کا مقصد طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، امتحانی عمل کو مقامی سطح پر مؤثر بنانا اور موجودہ بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے طلبہ کو امتحانی و انتظامی معاملات میں آسانی میسر آئے گی جبکہ نتائج کی بروقت تیاری اور شفافیت میں بھی بہتری آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن میں نئے بورڈز کے قیام سے انتظامی دائرہ کار کو تقسیم کر کے بہتر نگرانی ممکن بنائی جائے گی۔ اس سے قبل پورے آزاد کشمیر کے لیے مرکزی سطح پر امتحانی نظام چلایا جا رہا تھا جس پر بوجھ بڑھنے کے باعث مسائل کا سامنا تھا۔نوٹیفکیشن میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے بورڈز کے قیام کے لیے درکار انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات فوری طور پر مکمل کریں۔ ابتدائی مرحلے میں دفاتر کے قیام، عملے کی تعیناتی اور امتحانی ڈھانچے کی تشکیل پر کام کیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے شفافیت، وسائل کی فراہمی اور میرٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔