امریکہ ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوءے کہا ہے کہ امریکی فوج کو مجوزہ حملہ م¶خر کرنے کی ہدایت دی گءی ہے تاکہ تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تجویز پیش کرنے کا مزید وقت دیا جا سکے۔ منگل کو جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستانی ثالثوں کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ فوج کو ہدایت دی گءی ہے کہ وہ ناکہ بندی برقرار رکھتے ہوءے مکمل تیاری میں رہے، جبکہ جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجویز پیش نہیں کرتا اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔ امریکی صدر کے بیان میں کسی حتمی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے فوری طور پر کوءی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کا م¶قف بعد میں باضابطہ طور پر جاری کیا جاءے گا۔ یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ م¶قف میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چند گھنٹے قبل ہی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوءے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور امریکا بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ ادھر ایرانی حکام نے امریکی بحری ناکہ بندی کی مذمت کرتے ہوءے اسے مذاکرات میں شرکت کے لیے رکاوٹ قرار دیا ہے، جس کے باعث بدھ کو متوقع مذاکرات پر بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوءے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق جنگ بندی کا احترام کریں گے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے۔ تاہم بحری ناکہ بندی برقرار رہنے کے باعث یہ واضح نہیں کہ آیا ایران مذاکرات کی میز پر آءے گا یا نہیں۔