وفاقی بیوروکریسی کی ہٹ دھرمی،آزادکشمیر کے تاجر سخت پریشان ، کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر
میرپور (کشمیر نامہ نیوز) وفاقی حکومت کے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے سینٹرل بورڈ آف ریونیو آزادکشمیر کے ساتھ جی ایس ٹی سسٹم کو باہم مربوط کرنے کا جاری کیا گیا نوٹیفیکیشن عملی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوا ہے، جسے تاجروں کی جانب سے محض ایک “اعلانیہ اقدام” قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث آزادکشمیر کے ٹیکس دہندگان کو پاکستان کی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی سسٹم کی عدم ہم آہنگی کی وجہ سے انہیں دوہری ٹیکس پیچیدگیوں، دستاویزی مسائل اور کاروباری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ وفاقی بیوروکریسی کی جانب سے اس معاملے میں سنجیدگی کا فقدان پایا جاتا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر انتظام جاری تحریک میں تاجر برادری کی بھرپور شرکت کے باعث اس معاملے کو دانستہ طور پر طول دیا جا رہا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جی ایس ٹی سسٹم کو فوری طور پر مکمل طور پر فعال اور مربوط بنایا جائے تاکہ آزادکشمیر کے تاجروں کو درپیش مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور کاروباری طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ جی ایس ٹی نظام کی ہم آہنگی دونوں خطوں کے درمیان تجارتی روابط کو آسان بنانے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔