واپس جائیں

کشمیر بینک قرضہ سکیم کے نام پر نوجوانوں سے ہاتھ کر گیا۔

29 Apr 2026, 03:00 AM
کشمیر بینک قرضہ سکیم کے نام پر نوجوانوں سے ہاتھ کر گیا۔

میرپور (27 اپریل 2026): کشمیر بینک کی جانب سے بلا سود قرضہ اسکیم کے لیے عائد کی گئی سخت شرائط نے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے ریاست میں روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جسے ابتدائی طور پر نوجوانوں اور تاجروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا۔


 


تاہم، جیسے ہی قرضوں کی اجرائیگی کا عمل اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوا، کشمیر بینک انتظامیہ نے اسکیم کے حصول کے لیے غیر معمولی اور سخت شرائط عائد کر دیں۔ پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے کے لیے گریڈ 11 یا اس سے اوپر کے دو سرکاری افسران کی ضمانت بمعہ دستخط شدہ چیکس لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ پانچ لاکھ سے زائد قرض کے حصول کے لیے زمین کے کاغذات یا سونے کے زیورات بطور ضمانت پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔


 


ان شرائط کے باعث آزاد کشمیر بھر میں پڑھے لکھے نوجوانوں اور تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ان سخت تقاضوں نے اسکیم کے اصل مقصد کو متاثر کیا ہے، جو کہ آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کر کے بے روزگاری کے خاتمے اور کاروبار کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم کی شرائط میں نرمی لاتے ہوئے اسے واقعی عوام دوست بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں