ترقیاتی فنڈز کا استعمال،آزاد کشمیر کے بلدیاتی نمائندوں کی رٹ خارج۔
مظفرآباد(نامہ نگار) ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے حساس معاملے پر بلدیاتی نمائندگان کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے خارج کر دیا ہے۔ جسٹس سید شاہد بہار اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے مقدمہ بعنوان سردار جاوید شریف و دیگر بنام ممبران اسمبلی کی سماعت مکمل ہونے کے بعد یہ اہم فیصلہ آج سنایا۔ تفصیلات کے مطابق یہ رٹ پٹیشن لوکل گورنمنٹ کے تقریباً 5 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعے خرچ کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ بلدیاتی نمائندگان نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ فنڈز عوامی مفاد میں مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی استعمال ہونے چاہئیں، نہ کہ ممبران اسمبلی کے ذریعے۔ قبل ازیں عدالتِ عالیہ نے اس رٹ کو سماعت کے لیے منظور تو کیا تھا لیکن اس پر کوئی حکمِ امتناعی جاری نہیں کیا گیا تھا۔
حکمِ امتناعی جاری نہ ہونے پر بلدیاتی نمائندگان نے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس ہائی کورٹ کو ریمانڈ کرتے ہوئے اسے جلد از جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کی تھی۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 7 اپریل کو تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے رٹ پٹیشن خارج کیے جانے کے بعد لوکل گورنمنٹ فنڈز کے استعمال سے متعلق قانونی پوزیشن اب واضح ہو گئی ہے اور اس فیصلے کو آئندہ کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مظفرآباد: عدالت العالیہ آزاد کشمیر نے ممبر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سید نظیر الحسن گیلانی کی تقرری کے دائر پٹیشن خارج کر دی تفصیلات کے مطابق ممبر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر سید نظیر الحسن گیلانی کی تقرری کے خلاف رٹ پیٹیشن دائر کی گئی جس کی سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر جسٹس سردار لیاقت شاہین اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی عدالت العالیہ آزاد کشمیر کے دو رکنی بینچ نے رٹ کو ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کر دیا اور ممبر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی تقرری کو قانونی قرار دے دیا عدالت میں پیٹیشنر کی طرف سے ایڈوکیٹ سردار عثمان جبکہ سید نظیر الحسن گیلانی کی طرف سے سینیئر وکیل ہمایوں نواز خان نے دلائل دیے عدالت نے ابتدائی سماعت پر ہی پیٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دیکر سید نظیر الحسن گیلانی کی تقرری کو قانونی قرار دے دیا۔